بھٹکل 3/جون (ایس او نیوز) بھٹکل کے عوام الناس کوپولس بیٹ سسٹم کے تعلق سے جانکاری دئے بغیر اُن کے فوٹوز، دکانوں اور مکانوں کےفوٹوز وغیرہ لینے کی شکایتیں موصول ہونے پر مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کے ایک وفد نے جمعہ کی شام کو بھٹکل ڈی وائی ایس پی سے ملاقات کی اور اس بات پر زور دیا کہ عوام سے فوٹوز لینے سے پہلے اُن کو پولس بیٹ سسٹم کے تعلق سے معلومات فراہم کرنے کی ضرورت تھی ، مگر عوام الناس کو بغیر کچھ بتائے اُن کے فوٹوز، اُن کی دکانوں اور مکانوں کے فوٹوز لئے جانے کی شکایتیں موصول ہورہی ہیں۔ وفد کی قیادت کرتے ہوئے تنظیم جنرل سکریٹری محی الدین الطاف کھروری نے بتایا کہ پولس بیٹ سسٹم کے تعلق سے نہ تنظیم کے ذمہ داران کو خبر کی گئی ہے، نہ میونسپالٹی کونسلروں کو اعتماد میں لیا گیا ہے اور نہ ہی پنچایت ممبروں کو اس تعلق سے کوئی جانکاری دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عوام تنظیم دفتر میں فون کرکے شکایت کررہے ہیں کہ پولس اُن کی مکان پر پہنچ کر اُن کی فوٹوز لے رہی ہے اور ساتھ ساتھ دکانوں اور مکانوں کے فوٹوز بھی لے رہی ہے۔ الطاف کھروری نے بتایا کہ کچھ مکانوں میں لیڈیز پولس نے خواتین کی بھی فوٹوز لی ہیں اور اُن کے نام وپتے لکھ کر لے گئی ہیں اور اُن خواتین کو بھی اس تعلق سے کوئی جانکاری نہیں ہے کہ آخر فوٹوز کیوں لئے گئے ہیں۔
وفد کی شکایت پر بھٹکل ڈی وائی ایس پی مسٹر شیوپرکاش نے پولس بیٹ سسٹم کے تعلق سے سرکاری ہدایت کے متعلق وضاحت کی اور مکمل معلومات فراہم کی، نیز بتایا کہ ریاست گیر سطح پر پولس بیٹ سسٹم کے تحت پولس مختلف علاقوں میں عوام الناس سے مل کر الگ الگ علاقوں میں الگ الگ ٹیم تیارکررہی ہے۔ ہر ٹیم میں کم ازکم 20 مقامی ممبران کا ہونا ضروری ہے اور زیادہ سے زیادہ 50 ممبرس کی گنجائش ہے۔ انہوں نے تنظیم کی شکایت پر پولس اہلکاروں کی بھی سرزنش کی اور اُنہیں تاکید کی کہ وہ عوام کے ساتھ دوستانہ ماحول میں ملاقات کرے اور کسی پر زور زبردستی نہ کرے۔ انہوں نے عوام الناس کو پولس بیٹ سسٹم کے تعلق سے معلومات فراہم کئے بغیر اُن سے رابطہ کرنے پر بھی پولس اہلکاروں کی سرزنش کی ۔
وفد میں شریک بھٹکل مسلم یوتھ فیڈریشن کے صدر امتیاز اُدیاور سمیت تنظیم جنرل سکریٹری الطاف کھرورینے اس موقع پر پولس بیٹ سسٹم کے لئے اپنی جانب سے ہرممکن تعائون فراہم کرنے کی یقین دھانی کرائی اور آگے کی کاروائی تنظیم کے زیرماتحت آگے بڑھانے کی پیش کش کی، جس پر ڈی وائی ایس پی نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے رمضان کے بعد پولس بیٹ سسٹم کو مزید منظم طریقے پر آگے بڑھانے پر رضامندی ظاہر کی۔
پاسپورٹ انکوائری کے لئے لیڈیز پولس : پاسپورٹ انکوائری کے لئے اب نیا قانون لاگو کیا گیا ہے جس میں پاسپورٹ درخواست کنندگان کا دو مقامی علاقے کے گواہ اور پولس اہلکار کے ساتھ کھڑے ہوکر فوٹو لینا ضروری ہے۔ ایسے میں اگر کوئی خاتون پاسپورٹ کے لئے درخواست دیتی ہے تو اُس خاتون کے ساتھ دو مقامی مرد حضرات اور دو پولس (مرد) اہلکار کھڑے ہوکر فوٹو لیتے ہیں۔ اس تعلق سے تنظیم نے ڈی وائی ایس پی سے درخواست کی کہ خواتین کے لئے لیڈیز پولس کے ساتھ فوٹو کھینچوانے کا بندوبست کیا جائے۔ اس تعلق سے ڈی وائی ایس پی نے بھٹکل سرکل پولس انسپکٹر سریش نائک کو ہدایت دی کہ وہ لیڈیس کے ساتھ لیڈیس پولس کا انتظام کرے۔ سریش نائک نے بھی وعدہ کیا کہ وہ آئندہ خواتین کے لئے لیڈیس پولس کا انتظام کریں گے۔
ساتھ ساتھ ڈی وائی ایس پی شیو کمار اور سرکل پولس انسپکٹر سریش نائیک نے وضاحت کی کہ خاتون درخواست گذار اپنے بھائی یا قریبی رشتہ دار کے ساتھ بھی کھڑی ہوکر فوٹو کھینچواسکتی ہیں، اس کے لئے پڑوسی مرد حضرات کے ساتھ فوٹو کھینچوانا ضروری نہیں ہے۔
پاسپورٹ کے لئے جن خواتین نے عرضیاں دی ہیں، وہ اب پولس انکوائری کے موقع پر لیڈیز پولس کے ساتھ اور گواہ کے طور پر اپنے بھائیوں یا قریبی رشتہ داروں کے ساتھ کھڑی ہوکر فوٹوز کھینچواسکیں گی۔
تنظیم وفد میں الطاف کھروری کے ساتھ ڈی ایف صدیق، محمد صادق مٹا، محمد اشفاق کے ایم، امتیاز اُدیاور، مولوی یاسر برماور ندوی، جناب محمد میراں صدیقہ، فیاض مُلا، مولوی عزیرالرحمن رکن الدین ندوی اور ایڈوکیٹ عمران لنکا موجود تھے۔